what is Lazarus Syndrome , How Dead become alive? Any Lazarus Syndrome Video, How many cases of Lazarus Syndrome are there?
جینا کولکیوزہسپتال میں داخل تھی اوراچانک اس کے دل نے دھڑکنا بند کر دیا اور اسکو سانس آنا بند ہو گیا۔ جینا کولکیوز کو مردہ قرار دے دیا گیالیکن گیارہ گھنٹوں کے بعد اسپتال کے مردہ خانے میں وہ زندہ ہوگئی اور اسں نے سٹاف سے چائے اور کیک طلب کیا۔ جینا کولکیوز بہت سارے لوگوں میں سے ایک ہے جو مر کر زندہ ہوئے ہیں۔
آپ نے اکثر دیکھا اور سنا ہوگا کہ فلاں شخص مرنے کے بعد زندہ ہو گیا یہ کسی کو دفن کرنے لگے تو وہ زندہ ہو گیا۔اس حوالے سے مختلف قسم کی کہانیاں بھی مشہور ہیں پر ریسرچ سے پتہ چلا کہ یہ بھی ایک بیماری کی علامت ہے۔
اس علامت کو لازارس سنڈروم کہتے ہیں ۔لازارس سنڈروم سے مراد ہے کہ جب انسان کا دل دھڑکنا بند کر دے اور اسکو مصنوعی سانس کے باوجود سانس بحال نہ ہو اور انسان کو مردہ قرار د ے دیا جائے اور پھر انسان کا دل اچانک خود بخود دھڑکنا شروع کردے ۔ایسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔
سائنسدانوں نے اس رجحان کو 1982میں دریافت کیا اور اس کے بعد سے لے کر اب تک 38ایسے کیسے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایسے کیسز کی تعدا د دنیا میں رپورٹ ہونے والے کیسزسے بہت زیادہ ہے۔ تحقیق کے مطابق اکثر کیسز میں مریض دس منٹ کے اندر ہی دوبارہ سانس لینا شروع کر دیتا ہے۔
ڈاکٹرز کے لئے ایسے مریضوں کی موت کی شناخت کرنا آسان کام نہیں اور ڈاکٹروں کو اچھی طرح تسلی کر لینا چاہیے کہ مریض حقیقت میں مر چکا ہے۔
لازارس سنڈروم کیسے ہوتا ہے؟
ایک نایاب اور عجیب و غریب طبی حالت ہے، جس میں کسی شخص کی موت کے بعد دل کی دھڑکن یا سانس لینے کی صلاحیت دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔ اس حالت کا نام بائبل کے ایک واقعے سے لیا گیا ہے، جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مردہ شخص "لزارس" کو دوبارہ زندہ کیا تھا۔ اسی وجہ سے اس حالت کو "لازارس سنڈروم" کہا جاتا ہے۔
لازارس سنڈروم کی علامات
لازارس سنڈروم میں کسی شخص کی موت کے بعد، جب وہ طبی طور پر مردہ سمجھا جاتا ہے اور تمام علامات (جیسے کہ دل کی دھڑکن بند ہو جانا، سانس کا رک جانا) ظاہر ہو چکی ہوتی ہیں، اچانک دل کی دھڑکن دوبارہ شروع ہو جاتی ہے یا سانس کی صلاحیت واپس آ جاتی ہے۔ یہ حالت عام طور پر کسی کی موت کے چند منٹ یا گھنٹوں بعد پیش آتی ہے۔
لازارس سنڈروم کی وجوہات
اس سنڈروم کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، مگر اس بارے میں کچھ ممکنہ عوامل پر تحقیق کی گئی ہے
کیمیائی رد عمل: بعض اوقات دل کی دھڑکن یا سانس کی کمی کی وجہ سے قلبی عمل موقوف ہو سکتا ہے، لیکن وہ مکمل طور پر نہیں رکتا۔ جب دل کی دھڑکن یا سانس دوبارہ بحال ہوتی ہے، تو یہ ایک قدرتی کیمیائی رد عمل کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
دل کی دوبارہ بحالی: بعض اوقات، قلبی دھڑکن کی بحالی کا عمل مختلف طبی عوامل (جیسے کہ دل کی دھڑکن بحال کرنے کی مشینوں کا استعمال یا صحیح طریقہ سے دل کو دوبارہ فعال کرنا) کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر جسمانی رد عمل: بعض افراد کے جسم میں ایسے حالات ہوتے ہیں جو موت کے قریب پہنچنے کے باوجود جسم کو دوبارہ فعال کرنے کے عمل کی اجازت دیتے ہیں۔
لازارس سنڈروم کا طبی اثر
اس سنڈروم کی حالت میں ایک بار پھر دل کی دھڑکن اور سانس شروع ہو جانے کے بعد، مریض کا مکمل طور پر صحت یاب ہونا بہت نایاب ہوتا ہے۔ زیادہ تر مریضوں میں دوبارہ زندہ ہونے کے بعد کی حالت میں کوئی نہ کوئی سنگین طبی مسئلہ ہوتا ہے جیسے کہ دماغی نقصان یا دیگر اندرونی مسائل۔
لازارس سنڈروم کی تحقیق
یہ سنڈروم اب تک بہت نایاب ہے اور اس پر تحقیق جاری ہے۔ کئی محققین کا خیال ہے کہ اس سنڈروم کا کوئی سائنسی یا طبی طریقہ نہیں، اور یہ محض ایک قدرتی عمل ہے جو بعض نایاب کیسز میں ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کچھ خاص افراد میں توانائی کے بدلاؤ یا جسم کے دیگر رد عمل کی وجہ سے ہوتا ہے۔
لازارس سنڈروم ایک عجیب و غریب اور نایاب حالت ہے جس کی ابھی تک مکمل تفصیلات اور وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اگرچہ اس کے چند کیسز ڈاکٹروں اور محققین کے لئے موضوع بحث بنے ہیں، مگر اس کی حقیقت اور اس کے پیچھے چھپے سائنسی عوامل کا علم ابھی تک محدود ہے۔ یہ واقعہ انسانوں کے جسم کی پیچیدگی اور قدرت کے رازوں میں سے ایک ہے جو تحقیق کا موضوع بن چکا ہے۔
0 Comments