Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

رتن ٹاٹا

رتن ٹاٹا اور بل فورڈ

تمہیں کچھ نہیں پتہ سے آپ ہم پر بہت بڑا احسان کر رہے ہیں۔ ان دو جملوں کے درمیان نو سال کی محنت لگن اور انتقام کی آگ چھی ہے۔

 رتن ٹاٹا، جو آٹوموبائل سیکٹر میں اپنی انقلابی سوچ  کے لیے جانے جاتے تھے، نے 1990 کی دہائی میں ایک چھوٹی گاڑی ٹاٹا انڈیکا لانچ کی جو ان کے ایک خواب کی تعبیر تھی۔ تاہم جس خواب کو وہ ایک تاریخی سنگ میل کے طور پر دیکھ رہے تھے اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اور گاڑی مارکیٹ مینں جگہ نہ بنا سکی اور اسکی فروخت بہت کم رہی ۔ خراب فروخت کی وجہ سے، ٹاٹا نے کار ڈویژن کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور دنیا کی مشہور کار کمپنی فورڈ موٹرز کے ساتھ بات چیت شروع کی۔ رتن ٹاٹا اور ان کی ٹیم پر مشتمل کمپنی کا ایک وفد امریکہ گیا اور فورڈ کے چیئرمین بل فورڈ سے ملاقات کی۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں، ٹاٹا کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ میٹنگ کے دوران بل فورڈ نے ٹاٹا سے کہا کہ  "جب وہ کاروں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے نئی کار کیوں لانچ کی؟ بل فورڈ نے مزید کہا کہ ایک ناکام کار پلانٹ کو خرید کر ہم آپ پر بہت بڑا احسان کریں گے۔
رتن ٹاٹا اس بے عزتی کو برداشت نہ کر پائےاور  میٹنگ کے بعد رتن ٹاٹا نے کار ڈویژن کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہندوستان واپس آگئے۔ اور نئے سرے سے کاروبار کو شروع کیا اور بھی سخت محنت کی، اور فرم کو نئی بلندیوں تک لے گئے۔ اور پھر نو سال گذر گئے۔
 

سال 2008   کے عالمی مالی بحران نے جہاں بہت سی کمپنیوں کو متاثر کیا وہیں  فورڈ بھی دیوالیہ ہونے کے دہانے پر آگئی۔اس وقت رتن ٹاٹا نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لیا اورفورڈ کے مشہور برانڈ جگوار ور لینڈ روور کو  2.3  ڈالر میں خرید لیا۔ اور اس وقت بل فورڈ نے رتن ٹاٹا سے کہا کہ کمپنی خرید کر ہم پر بہت بڑا احسان کر رہے ہیں۔  

  

رتن ٹاٹا ایک عالمی شہرت یافتہ ہندوستانی صنعتکار اور کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ ٹاٹا گروپ کے چیئرمین ہیں، جو ایک عظیم کاروباری امپائر ہے جس میں مختلف صنعتوں میں موجودہ عالمی کمپنیوں کا مجموعہ شامل ہے۔ رتن ٹاٹا نے نہ صرف اپنے خاندان کی کمپنی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ کاروباری دنیا میں اپنی منفرد شناخت بھی بنائی۔

رتن ٹاٹا 28 دسمبر 1937 کو ممبئی، بھارت میں پیدا ہوئے۔ وہ جمشید جی ٹاٹا کے پڑپوتے ہیں، جو ٹاٹا گروپ کے بانی تھے۔ رتن ٹاٹا کے والد نارایان داس ٹاٹا اور والدہ سیمی ٹاٹا کی زندگی میں اہم کردار تھا۔ ان کے والد ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے، اور ان کی والدہ ایک مخلص اور محنتی خاتون تھیں۔ رتن ٹاٹا کی پرورش ایک تعلیمی اور ثقافتی ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کیرلی اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں امریکہ کے مشہور "کورنیل یونیورسٹی" سے آرکیٹیکچر کی ڈگری حاصل کی۔ رتن ٹاٹا نے ساری زندگی شادی نہیں کی اور انکی کوئی اولاد نہیں ہے۔

رتن ٹاٹا کا کاروبار میں قدم رکھنا ایک قدرتی عمل تھا کیونکہ ان کا خاندان پہلے ہی اس میدان میں موجود تھا۔ 1962 میں رتن ٹاٹا نے ٹاٹا گروپ کے ساتھ کام کرنا شروع کیا، لیکن انہیں ابتدائی طور پر کمپنی کی چھوٹے حصوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کمپنی کے مختلف شعبوں میں کام کیا، جس سے انہیں کاروباری دنیا کا تجربہ حاصل ہوا۔

تاہم، رتن ٹاٹا کی سب سے بڑی کامیابی 1990 کی دہائی میں آئی جب وہ ٹاٹا گروپ کے چیئرمین بنے۔ ان کے چیئرمین بننے کے بعد ٹاٹا گروپ نے عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور دنیا بھر میں اس کی موجودگی مضبوط ہوئی۔

رتن ٹاٹا نے 1990 میں ٹاٹا گروپ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا۔ ان کی قیادت میں، گروپ نے کئی نئے منصوبوں کا آغاز کیا، جن میں بین الاقوامی سطح پر توسیع اور نئے کاروباری شعبوں میں قدم رکھنے کی حکمت عملی شامل تھی۔ ایک اہم فیصلہ جس کا اثر دنیا بھر میں محسوس ہوا، وہ تھا "نانو کار" کا آغاز۔ 2008 میں ٹاٹا نے "نانو" نامی دنیا کی سب سے سستی گاڑی متعارف کروائی، جس کی قیمت صرف ایک لاکھ روپے تھی۔ اس گاڑی کی تخلیق نے دنیا بھر میں ایک نیا رجحان شروع کیا اور اسے عوامی سطح پر بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔

رتن ٹاٹا کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے اپنی موجودگی کو نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر بھی مستحکم کیا۔ انہوں نے کئی معروف بین الاقوامی کمپنیوں کو ٹاٹا گروپ کے زیر انتظام شامل کیا۔ ان کمپنیوں میں "چیلنجنگ کمپنیوں" جیسے "ٹیسکو"، "ٹٹلیس"، "کوراس" اور "جگوار" شامل ہیں۔ ان تمام کمپنیوں نے نہ صرف ہندوستانی معیشت کو فائدہ پہنچایا بلکہ عالمی مارکیٹ میں ٹاٹا گروپ کے اثر و رسوخ کو بھی بڑھایا۔

رتن ٹاٹا نے ہمیشہ اپنے کاروباری فیصلوں میں سماجی ذمہ داری کو ترجیح دی ہے۔ ان کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے بہت ساری فلاحی اور سماجی منصوبوں کی حمایت کی۔ ان منصوبوں میں تعلیمی اداروں کا قیام، صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ ٹاٹا گروپ کے تحت کام کرنے والے اداروں نے ہزاروں لوگوں کی زندگی میں بہتری لائی ہے۔

 ۔ 1990 کی دہائی میں، رتن ٹاٹا نے ایک اور بڑا قدم اٹھایا جب ٹاٹا گروپ نے ہندوستانی ایئر لائن "ایئر انڈیا" کی خریداری کا عمل شروع کیا۔ اس خریداری کے ذریعے ٹاٹا گروپ نے عالمی ہوابازی کے شعبے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ ایئر انڈیا کی خریداری کے ساتھ، رتن ٹاٹا نے عالمی ہوابازی کے شعبے میں بھارت کے اثر و رسوخ کو بڑھایا۔

رتن ٹاٹا کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں اپنا قدم جمایا۔ ٹاٹا گروپ کی کامیابی کا راز اس کے چیئرمین کی سوچ اور منصوبہ بندی میں تھا۔ رتن ٹاٹا نے نہ صرف کاروبار کو بڑھایا بلکہ اسے عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ ان کی قیادت میں، ٹاٹا گروپ نے عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کی، اور کئی بڑے بین الاقوامی معاہدے کیے۔

رتن ٹاٹا کی قیادت کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا کاروباری بصیرت تھی۔ انہوں نے ہمیشہ جدت پسندی اور فنی مہارت کو ترجیح دی، اور ان کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے نئی تکنیکی اختراعات اور صنعتی ترقی کی طرف قدم بڑھایا۔ ان کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے نہ صرف کاروبار میں ترقی کی بلکہ عالمی سطح پر ایک نیا مقام حاصل کیا۔

رتن ٹاٹا کی شخصیت میں انفرادیت تھی۔ وہ ایک نرم مزاج، ایماندار، اور محنتی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی زندگی میں کاروبار کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت اور سماجی فلاح و بہبود کا بھی اہم مقام ہے۔ رتن ٹاٹا کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے ہمیشہ اپنے معاشرتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کی۔

رتن ٹاٹا کے بعد ٹاٹا گروپ کی قیادت کا چیلنج ایک نئی نسل کے لیے تھا، مگر ان کی رہنمائی میں ٹاٹا گروپ نے کئی نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے ٹاٹا گروپ کو مزید متنوع اور عالمی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے کئی حکمت عملیوں پر عمل کیا۔

رتن ٹاٹا کا شمار ان چند کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے خاندان کے کاروبار کو عالمی سطح پر کامیاب بنایا بلکہ اپنے کام کے ذریعے دنیا بھر میں ہندوستان کی شناخت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کی قائدانہ صلاحیتیں، کاروباری حکمت عملی اور سماجی ذمہ داری کے تئیں ان کا عزم ان کی کامیابی کی کلید ہے۔ رتن ٹاٹا نے ثابت کر دیا کہ کاروبار کی کامیابی کے ساتھ ساتھ انسانیت کے لیے کام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ان کی زندگی اور کام آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔



You May Read This Also

Post a Comment

0 Comments