Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ساڑھی کی تاریخ




رصغیر میں ساڑھی ایک مقبول عام لباس ہے۔ یہ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پہنا جاتا ہے۔

اس لباس کا نام لفظ 'ستیکا'  (مطلب: نسوانی لباس) سے نکلا ہے، اور ابتدائی جین اور بدھ مت کے صحیفوں میں ظاہر ہوتا ہے۔

اس پہناوے کی تاریخ کتنی پرانی ہے، اس کا سراغ مہابھارت میں ملتا ہے۔ مہا بھارت (400 ق م سے 400 عیسوی) کے درمیان سنسکرت میں لکھی داستان) میں ایک عورت دروپدی کی کہانی درج ہے جو پانچ پانڈو بھائیوں کی مشترکہ بیوی تھی۔ بڑا بھائی یودستھر اپنے کزن کورو کے ساتھ جوا کھیل رہا تھا۔ اس نے جوئے میں اپنی سلطنت، اپنے چاروں بھائی اور پھر خود کو ہار دیا۔ اس کے بعد اس کی بیوی دروپدی رہ گئی تھی اس نے دروپدی کو بھی داو پر لگا دیا اور اسے بھی ہار گیا۔ دروپدی کو کورو شہزادے دہساسن کے دربار میں پیش کیا گیا تو اس نے دروپدی کو دیکھ کر اس کے لباس پر بری نیت سے ہاتھ ڈالا۔ دروپدی نے کرشنا بھگوان کو مدد کے لیے پکارا۔ اس دوران کورو شہزادے نے اس کے لباس کا ایک کونا کھینچا۔ معجزہ ہوا کہ لباس کا کونا کھنچتا چلا گیا اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس طرح وہ خود کو بچانے میں کامیاب رہی۔ یہ طویل لباس کہا جاتا ہے کہ ساڑھی تھی۔

ساڑھی ایک ان سلا کپڑا ہے جو چھ سے نو میٹر لمبا اور ایک میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ یہ لباس برصغیر کی علاقائی تہذیب سے متصل ہے۔

وادی سندھ کی تہذیب میں اس قسم کے لباس کا پتہ چلتا ہے۔ یہ تہذیب برصغیر پاک و ہند کے شمال مغربی حصے کے ارد گرد 2800-1800 قبل مسیح کے دوران پروان چڑھی تھی۔ 100 ق م میں شمالی ہند سے کھدائی سے ملنے والے پتھر کے ایک نسوانی مجسمے (شنگ عہد : 200 ق م تا 50 ق م ) نے جس قسم کا لباس پہنا تھا وہ ساڑھی سے مشابہ تھا۔ گندھارا تہذیب ( 50 ق م تا 300ء) کے مجسموں پر بھی بہت سے مختلف قسم لباس تھے۔ مشرقی ہند سے دریافت ہونے والا گپت عہد (300ء تا 500ء) کا ایک نسوانی مجسمہ مکمل طور پر ساڑھی میں ملبوس تھا۔ ہندوستان میں اجنتا کے غاروں (پانچویں صدی عیسوی کا آخر) میں اس دور کے بہت سے مجسموں میں ساڑھی میں ملبوس خواتین دکھائی گئی ہیں۔


ساڑھی پہننے کے سو سے زائد مختلف طریقے ہیں۔ نیوی آج کل پہنی جانے والی ساڑھی کا سب سے عام انداز ہے، جس کی ابتدا دکن کے علاقے سے ہوئی ہے۔ کوچ بہار کی مہارانی اندرا دیوی نے شیفون ساڑھی کو مقبول بنایا۔

برطانوی راج سے پہلے ساڑھی ایک الگ بلاوز اور پیٹی کوٹ کے بغیر ہی پہنا جاتا تھا۔

کہتے ہیں کہ ساڑھی کے ساتھ پہننے والے پیٹی کوٹ کو مسلمان خواتین نے گھاگھرا کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ جبکہ بلاوز کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ انگریزی خواتین برصغیر میں لائی تھیں۔

ساڑھی کے ساتھ ساتھ پفڈ آستین والے بلاؤز کا وکٹورین انداز عام طور پر بمبئی پریزیڈنسی اور بنگال پریزیڈنسی میں اشرافیہ میں دیکھا جاتا تھا۔


ہینڈلوم ساڑھیاں ریشم اور  سوتی کپڑے پر بلاک پرنٹس اور کڑھائی سے تیار ہوتی ہیں، اور یہ ٹائی ڈائی پرنٹس میں بھی مقبول ہیں۔ بروکیڈ اور ریشم مہنگی بنائیاں ہیں۔ ساڑھی کا بارڈر عام طور پر زرا بھاری ہوا کرتا تھا کہ ساڑھی ٹھہر سکے اور پلو بھی وزن دار ہو۔ لیکن آج کل بغیر چوڑے بارڈر کی ساڑھیاں تیار ہوتی ہیں بعض میں تو بارڈر بھی نہیں ہوتا۔ ساڑھیوں کی تیاری میں علاقائی مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے رنگ، ڈیزائن اور میٹیریل کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے۔ ہر خطے کا اپنا مزاج ہوتا اور اس کا اظہار ساڑھیوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔


ساڑھی بنگلہ دیشی خواتین کا قومی لباس ہے۔ تمام لڑکیاں اور شادی شدہ خواتین ساڑھی کو اپنے عام لباس کے طور پر پہنتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ساڑھیاں مقبول ہیں اور خاص مواقع پر پہنی جاتی ہیں۔ شلوار قمیض، تاہم، روزانہ کا عام لباس ہے۔ ساڑھی شادیوں اور دیگر فنکشنز کے لیے باقاعدگی سے پہنی جاتی ہیں۔ سندھ میں بہت سی مسلم خواتین جو ساڑھیاں پہنتی ہیں ان میں پھولکاری (جو کہ پنجاب کا ورثہ ہے، وسطی ایشیائی بدوؤں سے آیا تھا)

کوٹا ڈوریا (ایک نازک کپڑے کا نام جس پر چھوٹے چھوٹے مربع نما نمونے ( کھٹ) سے بنے ہوتے ہیں۔ کوٹا ڈوریا ساڑھیاں خالص سوتی اور ریشم سے بنی ہوتی ہیں)،  

بنارسی، اجرک سب سے زیادہ پہنی جاتی ہیں۔ سندھ کی ہندو خواتین ساڑھی ہی پہنتی ہیں۔



یہ قدیمی لباس آج کے جدید دور میں بھی اسی جازبیت کے ساتھ پورے برصغیر میں نہ صرف پچھلی نسل بلکہ آج کی جدید نسل میں بھی بے حد مقبول ہے۔



You May Read This Also

Post a Comment

0 Comments