

زویا سے میری پہلی ملاقات فیس بک پر ایک شعر و شاعری کے گروپ سے ہوئی تھی۔ گروپ سے انباکس اور پھر موبائل نمبر تک کے سفر میں دو ماہ لگ گئے۔ ہمارے خیالات اور مشاغل بہت ملتے تھے اس لئے ہم بہت جلد دوست بن گئے اور پھر دوستی کب محبت میں بدلی پتہ ہی نہیں چلا۔ اس کے باوجود کہ ہم دونوں شادی شدہ تھے ہماری محبت آگے بڑھتی رہی اور پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ہمارا ایک دوسرے کے بنا رہنا مشکل لگنے لگا۔ اور ہم مستقبل کے بارے میں سوچنے لگے۔ ایک بار بھی یہ خیال پاس سے نہیں گزرا کہ ہم شادی شدہ ہیں ۔
میں نے ایک بار پھر گھڑی کی طرف دیکھا ۔ ابھی دس بج رہے تھے ۔ کب نکلیں گی ؟ پلیز جلدی آ جائیں۔ میں نے زویا کو میسج کیا ۔پر کوئی جواب نہیں آیا ۔
میرا نام شہباز یے اور میں چالیس سال کا ایک کامیاب بزنس مین اور شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہوں اور امریکہ میں رہتا ہوں ۔ شروع سے ہی کچھ معاملات کے باعث ازدواجی زندگی متاثر رہی۔ زویا بھی میری ہم عمر اور دوبچوں کی ماں تھی اور اسکی شادی شدہ زندگی بھی مسائل کا شکار تھی۔
ہم دونوں عمر کے اس حصے میں تھے جہاں ایک اچھے دوست کی ضرورت محسوس ہوتی ہے پر اب بات دوستی سے بڑھ کرمحبت تک جا پہنچی تھی۔
بس نکل رہی ہوں ۔زویا کامیسج آگیا۔ میری بے چینی بڑھ رہی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو تصاویر اور ویڈیو کال پر دیکھا تھا۔ میں نے شیشے میں خود پر نظر ڈالی اور کمرے کا جائزہ لیا۔
میز پر خوبصورت کیک اور پھول موجود تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ آج زویا کو پروپوز کر دوں گا۔ ہیرے کی انگوٹھی میری جیب میں تھی ۔
ڈور بیل نے مجھے خیالوں کی دنیا سے واپس لے آئی۔میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ جس عورت سے زندگی میں پہلی بار محبت ہوئی آج اس سے سامنا ہونے جا رہا تھا۔
میں نے سانسیں سنبھالتے ہوئے دروازہ کھولا۔ سامنے ہی وہ کھڑی تھی ۔کالے لباس میں ۔ کتنا خیال تھا اسکو میری پسند کا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا ۔ وہ تصویروں سے زیادہ حسین دکھ رہی تھی ۔ اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور نظریں جھکا کر کمرے میں داخل ہو گئی۔ میں نے اسے خوش آمدید کہا اور وہ میرے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔ کمرے میں گہرہ سناٹا تھا۔ زویا سر جھکائے چپ چاپ بیٹھی تھی۔ شکریہ میں نے سکوت توڑا۔ اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا اور بولی کس بات کا شکریہ۔
مجھ پر اعتماد کرنے کا یہاں آنے کا شکریہ۔ میں نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ میں اٹھ کر اسکے ساتھ بیٹھ گیا ۔مجھے اسکی خوشبو شدت سے محسوس ہونے لگی۔میں نے اسکا تھاما۔اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ زویا کیا ہوا پریشان ہیں۔ میں نے اسکا چہرہ اوپر اٹھایا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں بے پریشان ہو گیا ۔کیا ہوا خیریت تو ہے۔ اس نے آپ اپنا سرمیرے کندھے پر رکھا اور رونے لگی۔ میرا کندھا اس کے آنسو وں سے گیلا ہو گیا۔ میں نے اسکے سر کو سہلایا اور چپ چاپ اسکو رونے دیا۔ میں پریشان بھی تھا کہ ایسا کیا ہوا جو زویا اتنی پریشان ہے ۔شائید میری کوئی بات بری لگی اسے۔
کافی ٹائم گزر گیا۔ کمرے میں عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔
کیا ہوازویا؟ کیا میری کوئی بات بری لگی؟ میں نے بے چینی سے پوچھا۔
نہیں شہباز ۔میں تو آپ سے دل وجان سے پیار کرتی ہوں ۔اس لئے یہاں چل کر آئی ہوں ۔مگر زویا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
مگر کیا ؟ میں نے آہستگی سے پوچھا۔
شہباز میں بہت مشکل میں ہوں۔ زویا نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ پتہ ہے آج جب میں گھر سے نکلنے لگی تو میں نے ایک نظر اپنے گھر بچوں اور شوہر پر ڈالی۔ یہ تو میری جنت یے۔ ایک دم سے خیال میرے زہن میں آیا میری کسی خطا سے یہ جنت مجھ سےنہ چھن جائے۔ اگرچہ میری اپنے شوہر سے زیادہ نہیں بنتی پر اس نے کبھی مجھے کوئی تکلیف نہیں دی پابندی نہیں لگائی ۔کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔ میرے بچے جن کے لئے میں ایک آئڈیل ماں ہوں۔ ہاں میں آپ سے پیار کرتی ہوں اور شادی بھی کرنا چاہتی ہوں پر ایک جنت سے نکل کر مجھے دوسری جنت کیسے مل سکتی ہے۔ ہمارے اس فیصلے سے ہمارے بچوں کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا
شہباز شائید محبت ہمارے لئے نہیں بنی۔ہماری زندگی اپنے گھر اور بچوں کے ساتھ جڑی ہے اور وہی ہماری اولین ترجیع ہیں۔ ہمیں اپنی محبت اور خواہشات کو اپنی جنت بچانے کے لئے مارنا ہو گا ۔
اور پھر اپنی اولاد اور اپنی جنت کے لئے ہم نے محبت کی قربانی دے دی کیونکہ عشق ہوتا نہیں سبھی کے لئے۔
0 Comments