مشہور وی لاگر رجب بٹ کو عدالت نے شیر کا بچہ رکھنے کے کیس میں ایک سال کمیونٹی سروس کی سزا سنا دی۔ رجب بٹ ایک سال تک ہر ماہ کے پہلے ہفتے جانوروں کے حقوق کے حوالے سے وی لاگ کریں گے۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی عدالت کی طرف سے دی جانے ولی ایک منفرد اور اچھی سزا ہے۔ رجب بٹ نے کوئی بڑا جرم نہیں کیا تھا اور کمیونٹی سروس سے انکی عزت اور وقار میں اضافہ ہو گا۔رجب بٹ نے عدالت میں اپنی غلطی تسلیم کی ۔
یاد رہے کی شادی کے موقع پر رجب بٹ کو انکے دوستوں نے شیر کا بچہ تحفے میں دیا تھا جس پر انکے خلاف کیس لانچ کر دیا گیا تھا۔
لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے رجب بٹ کو شیر کا بچہ غیر قانونی طور پر رکھنے پر کمیونٹی سروس کی سزا سنائی۔ جنگلی حیات کے ایک افسر نے اس کے خلاف شکایت درج کرائی تھی، جسے اس نے تسلیم کر لیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے مطابق رجب ایک سال تک پروبیشن آفیسر کی نگرانی میں کمیونٹی سروس فراہم کرے گا۔ وہ اپنے پانچ منٹ کے بلاگ میں جانوروں کے حقوق پر بات کریں گے جو پروبیشن آفیسر کی اجازت کے بعد ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں اپ لوڈ کیا جائے گا جس میں رجب بٹ جانوروں کے تحفظ اور حقوق پر بات کرے گا۔
عدالت نے محکمہ وائلڈ لائف کو ہدایت کی کہ رجب بٹ کو جانوروں کے تحفظ سے متعلق تمام مواد فراہم کیا جائے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر پروبیشن آفیسر رجب بٹ کو ذاتی طور پر طلب کرے تو وہ پیش ہونے کے پابند ہوں گے۔ فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔
ٹک ٹوکر رجب نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس غیر قانونی طور پر شیر کا بچہ ہے۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ جنگلی جانور تحفے کے طور پر نہیں مل سکتے۔ اب وہ سمجھتا ہے کہ ان حالات میں جنگلی جانوروں کو رکھنا نامناسب ہے۔ اسے اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔
سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے کے ناطے، اسے مثبت مواد بنانا چاہیے۔ اسے شیر کا بچہ رکھنے اور ایسا کرکے غلط مثال قائم کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے، وہ رضاکارانہ طور پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے کمیونٹی سروس فراہم کرے گا اور جنگلی جانوروں کے حقوق کے بارے میں مثبت پیغام پھیلائے گا۔ رجب نے مزید کہا کہ وہ خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
0 Comments