ایک حالیہ انٹرویو میں پی ٹی آئی رہمنا وکیل اور سیاست دان شیر افضل مروت نے بتایا انہوں نے بیٹا پیدا کرنے کی خاطر دوسری شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
شیر افضل مروت کہتے ہیں کہ ہماری شادی کے چھ سال ہو چکے تھے اور اللہ نے مجھے بیٹے کی نعمت سے نہیں نوازا تھا۔ میرے والد تب بھی زندہ تھے، اور اولاد کے لئے دوسری شادہ کرنا ہمارے خاندان میں معمول تھا۔ 2007 میری بیوی نے مجھے کہا کہ مجھےدوسری شادی کرلینی چاہیے۔ میری بیوی بہت سنجیدہ تھی جب اس نے مجھے دوسری شادی کا مشورہ دیا۔
تاہم، مروت نے کہا کہ اس معاملے پرکافی دیر سوچنے کے بعد، انہوں نے اپنی اہلیہ کو بتایا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتے ہیں اور اسکو اتنی تکلیف میں نہیں ڈال سکتے۔
مروت نے مزید کہا کہ اس طرح کا اقدام کسی بھی خاتون کے ساتھ انتہائی ظالمانہ ہوگا جس نے صرف اپنے شوہر اور اس کے خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے سب کچھ چھوڑ دیا ہو۔میں اپنی زندگی میں صرف ایک بچہ پیدا کرنے کے لیے دوسری عورت نہیں لا سکتا تھا، انہوں نے کہا۔ ہر کسی کی طرح، ایک عورت کی صرف ایک زندگی ہوتی ہے۔ اس نے بنیادی طور پر آپ کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے اپنی زندگی کی ہر چیز کو پیچھے چھوڑ دیا ہوتا ہے تو ہم کیسے اسکے ساتھ ظلم اور نا انصافی کر سکتے ہیں۔
ویل ڈن شیر افضل صاحب
0 Comments