دراز قد ، بولتی شریر آنکھوں اور شریرسا دکھنے والا وجیہ و شکیل عظم الحق کس کس کو یاد ہے؟ جو اس وقت کے نوجوانوں کا پسندیدہ ترین ہیرو تھا۔
عظم الحق 80 اور 90 کی دہائی کا سب سے خوبصورت اور وجاہت سے بھرپور اداکار تھا۔ خوبصورت آواز اور انداز گفتگو سننے والے کے دل میں گھر کرلیتی تھی۔ عظم الحق 1962 میں لاہور میں پیدا ہوئے اورابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ آپ انجینرنگ یونیورسٹی میں بھی پڑھتے رہے ہیں۔
عظم الحق نے ڈرامہ لازوال، رات، پیاس ، احسان اورخواہش میں یادگار کردار ادا کئے اور اس وقت کی خواتین میں بہت مقبول تھے۔ انکا تعلق ایک پڑھی لکھی متول فیملی سے تھا اور انکے خاندان کا سیاست سے بھی تعلق تھا۔ آپ مختلف ادوار میں مختلف عہدوں پر بھی کام کرتے رہے۔
عظم الحق پھر کینیڈا شفٹ ہو گئے اور وہاں پربھی مختلف عہدوں پر کام کیا اور میڈیا اور ریڈیو پر بھی پروگرام پیش کرتے رہے۔عظم الحق سیلون کیمڈن کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں، جو ایک شہری ثقافتی پروجیکٹ ہے جو شہریوں کو رات کے کھانے پر اکٹھے ہونے کے لیے شہر کے بدلتے ہوئے شہری منظر نامے کے بارے میں رائے اور خیالات کا اشتراک کرنے کے لیے ایک انٹرایکٹو جگہ فراہم کرتا ہے۔
عظم الحق کو وینکوور 2010 کے اولمپک اور پیرا اولمپک سرمائی کھیلوں کے لیے ٹورنٹو کی سفیر مقرر کیا گیا تھا۔
اتنی دہائیاں گذر جانے کے باوجود لوگ ابھی تک انکی وجیہ و شکیل شخصیت کو نہیں بھول پائے اور انکی اداکاری اور آواز احساسات میں موجود ہے۔
0 Comments