Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

بھارت میں مہا کمبھ میلے میں خواتین کے نہانے اور کپڑے بدلنے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل

 

kumbh mela pictures download

 

مذہب چاہے کوئی بھی ہو اسکی عبادات کا احترام ضروری ہے اور اسلام بھی ہمیں رواداری کا درس دیتا ہے۔ حال ہی میں بھارت میں ایک شرمناک

 سکینڈل سامنے آیا ہے جہاں  کمبھ میلے  میں دریاوں کے سنگم پر مذہبی غسل کرنے والی خواتین کی کپڑے بدلتے اور تولیے میں  تصاویر اور ویڈیوز کو نا

 صرف انٹرنیٹ پر شیئر کیا گیا بلکہ انکو فروخت کے لئے بھی پیش کیا گیا۔ اور ان کو خاص ہیش ٹیگ کے ساتھ وائرل بھی کیا گیا۔ 

 

بھارت میں  مہا کمبھ کے میلے کے  دوران بڑی تعداد میں لوگ گنگا جمنا اور سرسوتی دریا کے  سنگم میں غسل کرتے ہیں جن میں مرد و خواتین دونوں

 شامل ہیں۔ مگر حال ہی میں انڈیا میں اس خبر کے ساتھ طوفان آ گیا کہ  کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مہا کمبھ میلے میں   لڑکیوں اور خواتین کے نہانے

 اور کپڑے بدلنے کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئیں۔ ایسی ویڈیوزاور تصاویر سوشل میڈیا  ویب سائٹس فیس بک، ایکس اور یوٹیوب پر دستیاب

 تھیں۔ اس کے علاوہ  یہ ویڈیوز کئی ٹیلی گرام چینلز پر فروخت ہو رہی تھیں۔

پریاگ راج میں جاری مہا کمبھ میں مبینہ طور پر ریکارڈ کیا گیا قابل اعتراض مواد فیس بک، انسٹاگرام اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر گردش کر رہا

 ہے۔ ان میں سے کچھ ویڈیوز، جن میں خواتین اپنے آپ کو تولیوں سے ڈھانپ رہی ہیں یا کپڑے بدل رہی ہیں، کو  لوگوں کو ترغیب دینے کے لئے

 استعمال کیا جا رہا ہے۔

 اتر پردیش پولیس نے ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے جن پر پریاگ راج میں جاری مہا کمبھ میں خواتین کے نہانے

 اور کپڑے تبدیل کرنے کی واضح ویڈیوز اور تصاویر فروخت کرنے کا الزام ہے۔ اتر پردیش کے پولیس چیف پرشانت کمار کی ہدایت پر دو مقدمات

 درج کیے گئے ہیں، ممکنہ گرفتاریوں سمیت قانونی کارروائی جاری ہے۔

سب سے پہلے ایک کیس 17 فروری کو ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ کے خلاف درج کیا گیا تھا جس میں نامناسب ویڈیوز کا اشتراک پایا گیا تھا، اس کے بعد

 دوسرا کیس 19 فروری کو ایک ٹیلی گرام چینل پر اسی طرح کے مواد کی فروخت کا پتہ چلنے کے بعد درج کیا گیا تھا۔

کوتوالی کمبھ میلہ پولیس اسٹیشن معاملے کی تحقیقات  رہا ہے، اور حکام نے اکاؤنٹس چلانے والے افراد کے بارے میں تفصیلات کے لیے انسٹاگرام کی

 مالک کمپنی میٹا سے رابطہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابو بھارت میں سرچ انجن پر ان تصاویر کو بھی کثیر تعداد میں تلاش کیا گیا ہے۔


You May Read This Also

Post a Comment

0 Comments