جب جب لاہورکا ذکر آتا ہے تو پاک ٹی ہاوس کا نام بھی ضرور لیا جاتا ہے ۔ پاک ٹی ہاؤس دانشوروں ،ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ اپنی وابستگی کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہ کیفے 1940 میں لاہور کے ایک سکھ بوٹا سنگھ نے قائم کیا تھا اور اسکا نام انڈیا ٹی ہاؤس رکھا تھا۔ یہ ٹی ہاوس لاہور کی سب سے شاندار مال روڈ کے بلکل ساتھ واقع تھا اور عجائب گھر اور بہت سے سرکاری کالج اورعمارات بھی اس کے آس پاس واقع تھیں جس سے اسکی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوا۔ 1944 میں اسے دو سکھ بھائیوں سرتیج سنگھ بھلا اور قیصر سنگھ بھلا نے سنبھال لیا اور 1947 تک انکے پاس رہا۔ پھر 1947 کی تقسیم کے فسادات کے دوران انڈیا ٹی ہاوس بند رہا۔ اور 1948 میں، سراج الدین احمد، ایک مقامی کاروباری شخصیت نے یہ جگہ ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن کی انتظامیہ سے کرائے پر لی۔ انہوں نے 1950 میں اس کا نام "پاک ٹی ہاؤس" رکھا اور 1948 سے 1978 تک اس ریسٹورنٹ کو کامیابی سے چلایا۔ ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے زاہد حسن نے کیفے اور ریستوراں کا انتظام سنبھالا۔ یہ تاریخی ٹی ہاؤس ایک ایسی جگہ تھی جہاں شہر بھر کے ادیب، شاعر اور ادکار آ کر محفل جماتے تھے ۔ 1990 کی دہائی تک یہ سلسلہ جاری رہا مگر سال 2000 میں گاہکوں کی آمد میں کمی کے کے باعث اسے چلانا ممکن نہیں رہا تو اسے بند کر دیا گیا۔ اس عرصے کے دوران اس کی ملکیت ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن نے لے لی۔
پھر 1999 میں اسے اس کے مالک نے کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے بند کر دیا، لاہور کی دانشور برادری کی جانب سے اس فیصلے پر تنقید کی گئی۔ یہ 2 فروری 2012 تک 13 سال تک بند رہا جب لاہور کے کمشنر کے حکم پر پاک ٹی ہاؤس کو دوبارہ ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن کے کنٹرول میں کر دیا گیا۔جون 2012 میں، حکومت پنجاب نے پاک ٹی ہاؤس کو دوبارہ کھولنےکا فیصلہ کیا ۔ 8 مارچ 2013 کو نیلہ گنبد روڈ پر واقع پاک ٹی ہاؤس کا نئے سرے سے آغاز کیا گیا۔ بہت سی ادبی شخصیات نے اسکے افتتاح میں حصہ لیا جن میں پاکستانی ادیب عطاء الحق قاسمی بھی شامل تھے۔ اکتوبر 2013 میں، حکومت نے پاک ٹی ہاؤس کو والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کے حوالے کر دیا تھا۔ پاک ٹی ہاؤس اب بھی اعلی معیار کے کھانے اور اسنیکس اور مناسب قیمت کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ کیفے کی دیواروں پر کئی ادبی شخصیات کی تصویریں آویزاں ہیں جو اس جگہ کا دورہ کیا کرتے تھے۔
جمعہ 8 مارچ 2013 کو لاہور کا مشہور پاک ٹی ہاؤس 13 سال کی بندش کے بعد دوبارہ کھل گیا۔ حاضرین میں پاکستانی ادیب عطاء الحق قاسمی بھی شامل تھے۔ لاہور کے رواں ادبی اور ثقافتی ماضی کو یاد رکھنے والوں کے لیے پاک ٹی ہاؤس ایک
خاص جگہ ہے۔
پاک ٹی ہاؤس جانے والی مشہور شخصیات میں فیض احمد فیض، ابنِ انشاء، احمد فراز، سعادت حسن منٹو، جوش ملیح آبادی، ساحر لدھیانوی، امریتا پریتم، منشی پریم چند، مجروح سلطان پوری، ایم ڈی تاثیر، کرشن چندر، عصمت احمد، عصمت احمد، راحیل شریف، احمد نذیر، احمد۔ ندیم قاسمی، حبیب جالب، کیفی اعظمی، کمال احمد رضوی، ناصر کاظمی، انتظار حسین، راجندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری، استاد امانت علی خاں، آغا شورش کاشمیری، پروفیسر سید سجاد رضوی، ڈاکٹر محمد باقر، سید احمد شاہ، سید احمد شاہ، محمود احمد، احمد شاہ، احمد شاہ اور دیگر شامل ہیں۔
0 Comments