جیسے ہی میں کالج سے گھر پہنچا، ابا جی کی گرج دار آواز سنائی دی۔ یہ کس نے اتنی لوکل کالز کی ہیں۔ اتنا بل کیوں آیا ہے۔ امی پریشان باورچی خانے میں
کھڑیں تھیں اور میرے چھوٹے بہن بھائی صحن میں سہمے ہوئےبیٹھے تھے۔ جونہی میں گھر میں داخل ہوا والد محترم کی بندوق کا رخ میری طرف ہو
گیا۔ تم نے کیں اتنی لوکل کالز۔ ٹیلی فون کا بل 1100 روپے آیا ہے اور 800 لوکل کالز ہیں ۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ نہیں ابا جی میرے پاس تو
ٹیلیفون کے ڈ بے کی چابی نہیں ہوتی۔ میں نے گھبراتے ہوئے جواب دیا۔ آپ ٹیلی فون کے آفس جا کر شکایت درج کروائیں۔ امی نے ابو کو مشورہ
دیا۔ ابو کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ 1997 میں 1100 روپے اچھی خاصی رقم ہوتی تھی۔خیر میں ابو کی نظروں سے بچتا اپنے کمرے
میں چلا گیا اور کمپیوٹر آن کر کے انٹرنیٹ آن کرنے کی کوشش کی۔ بار بار کوشش کے باوجود انٹرنیٹ نہ چل سکا۔ کچھ دن پہلے ہی میں نے انٹرنیٹ کا
کنکشن لیا تھا اور نیا نیا انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اور ایک الگ ہی نشہ، الگ ہی دنیا تھی۔ اور لگتا تھا کہ ساری دنیا آپکے ہاتھ میں آ گئی ہو۔
جب انٹرنیٹ کنیکٹ نہیں ہوا تو تھک ہار کر میں صحن میں آیا ۔ ابو جا چکے تھے ۔
شام کو دوستوں کے ساتھ بیٹھتے ہی میں نے انکو بتایا کہ اس بار ٹیلیفون کا بل بہت زیادہ آیا ہے اور بہت زیادہ لوکل کالز آئی ہیں۔ تب ایک دوست نے
بتایا کہ جب ہم انٹرنیٹ چلانے کے لئے ڈائل اپ کنکشن سے ڈائل کرتے ہیں تو ایک لوکل کال چارج ہوتی ہے اور پھر جتنی بار ٹرائی کرتے ہیں اتنی
ہی لوکل کالز پڑتی ہیں تب مجھے سمجھ آئی کہ ہمارا ٹیلی فون کا بل کیوں زیادہ آیا۔ پر ابا جی کو حقیقت بتانے کی جرات نہیں تھی پر یہ تھا کہ تب میں نے
احتیاط کرنا شروع کر دی تھی، یہ صورتحال ہر اس شخص نے دیکھی ہوگی جس نے نوے کی دہائی سے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا تھا۔
آج کی وائی فائی نسل شائید نہیں جانتی کہ جب ہم نے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا تو اس وقت انٹرنیٹ کی قیمت،اور رفتار اور معیار کیاتھا ۔ کبھی
کبھی ایک گھنٹہ انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیےگھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ میں نے سب سے پہلے انٹرنیٹ 150 روپے گھنٹہ کے حساب سے استعمال
کیا تھا اور ایک گھنٹے میں بمشکل نیٹ اسکیپ سرچ انجن ہی کھلتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ انٹرنیٹ کی قیمت کم ہوتی گئی پر انٹرنیٹ پھر بھی ترس ترس کر ملتا
تھا۔ کمپیوٹر سے زیادہ گھڑی پر نظر ہوتی تھی کہ کب گھنٹا ختم ہوگا۔ اسپیڈ بہت کم ہوتی تھی اور ایک گھنٹے میں دو سے تین بار لائن بریک ہو جاتی
تھی اور پھر دوبارہ ڈائل کرنا پڑتا تھا۔
پھر جب انٹرنیٹ کی مارکیٹ بڑھی تو پھر کچھ پرائیویٹ انٹرنیٹ کمپنیاں آ گئیں اور انٹرنیٹ کے پری پیڈ کارڈ ملنے لگے۔ مجھے یاد ہے کہ چوکے اور چھکے
کے نام سے کارڈ مارکیٹ میں دستیاب تھے ۔چوکے میں چار گھنٹے ہوتے تھے اور چھکے میں چھ گھنٹے ہوتے تھے۔ پھر پی ٹی سی ایل نے وائرلیس
انٹرنیٹ متعارف کروایا جس کی سپییڈ کچھ بہتر تھی۔ انٹرنیٹ کی سپیڈ کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ایک میگا بائٹ فائل کو ڈاونلوڈ کرنے میں بھی
کم سے کم 30 منٹ تک لگ جاتے تھے۔
انٹرنیٹ کیفے ان دنوں عام تھے جہاں نوجوانوں سے لے کر بوڑھے سارا سارا دن انٹرنیٹ کی خاک چھانتے تھے۔ اور ان دنوں انٹرنیٹ کا کاروبار
بہت منافع بخش تھا کیونکہ پاکستانی کی اکثریت کے پاس گھر پر کمپیوٹر کی سہولت میسر نہیں تھی۔ انٹرنیٹ کیفے نے بہت سے بچوں کی پڑھائیوں
کو متاثر کیا۔
ان دنوں چیٹنگ کے لئے ایم آئی آر سی اور آئی سی قیو استعمال ہوتے تھے جہاں مختلف چیٹ رومز ہوتے تھے۔ پھر یاہو مسیجر اور ایم ایس این
مسینجر بھی استعمال ہوتے تھے۔ اور ان کے بھی چیٹ رومز ہوتے تھے جہاں دنیا بھر کے ویلے لوگ دوستیاں بنانے کے لئے بیٹھے ہوتے
تھے۔ اس زمانے کے اکثر لوگوں کے ایم میل ایڈریس ہاٹ میل اور یاہو پر بنے ہوتے تھے۔ جی میل تو بہت بعد میں آئے اور چھا گئے۔
کئی سالوں تک عوام ڈائل اپ انٹرنیٹ اور وائرلیس انٹرنیٹ استعمال کرتے رہے ۔ اور پھر پاکستان میں موبائل سروس اور پھر 2 جی انٹرنیٹ
سے 3 جی ، اور 4 جی اور وائی فائی اور فائبڑ آپٹک کا ایسا انقلاب آیا جو شرم و حیا، رشتوں کا تقدس، احساس اور محبت کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔
شائید آج کی نوجوان نسل جو پوری فلم پانچ منٹ میں ڈاونلوڈ کر لیتی ہے۔ ویڈیو کال کر لیتی ہے ۔ آرام سے ڈیٹا شیئرنگ کرلیتی ہے اور بے حساب
انٹرنیٹ ڈیٹا استعمال کر لیتی ہے اسے کیا پتہ کہ ایک وقت تھا کہ ای میل کھلنے میں بھی کبھی کبھی آدھا گھنٹا لگ جاتا تھا۔
آج تیز رفتار انٹرنیٹ،اور آرٹی فیشیل انٹیلیجنس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے اور آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کے نئے ابواب کھلنے والے ہیں۔
آپ میں سے کس کس نے نوے کی دہائی میں انٹرنیٹ استعمال کیا ۔ آپ سب بھی اپنے تجربات ضرور شئیر کریں۔
0 Comments