لطیف کپاڈیہ 27 مارچ 1934 کو ناسک، مہاراشٹر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین ہندوستانی گجرات کے گاوں ابراما سے تعولق رکھتے تھے۔ 13 سال کی عمر میں، لطیف کپاڈیہ اپنے والدین کے ہمرا کراچی، پاکستان آ گئے۔ ان کا
شمار پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور اداکاروں میں ہوتا ہے۔
لطیف نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور سٹیج اداکار کیا۔ اداکاری کی شروعات 1953 میں تھیٹر سے محبت کرنے والے ایک جوڑے مہر جی اور پرویز دستور نے کی۔ انہوں نے 1950 کی دہائی میں بہت سے ڈرامے پیش کیے۔
سال 1957 میں، لطیف کپاڈیہ نے علی احمد اور اپنے بڑے بھائی، غلام علی کپاڈیہ کے ذریعہ بنائے گئے اوونت گارڈے آرٹس تھیٹر میں شمولیت اختیار کی۔ علی احمد کا ڈرامہ شیشے کے آدمی بہت کامیاب رہا۔ اس میں لطیف کپاڈیہ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے دوسرے مشہور ڈرامے جن سے انہیں شہرت ملی وہ قصہ جگتے سوتے کا، ایک دن کا سلطان اور پھر بھی ہم جیتتے رہے تھے۔
جب 1967 میں پاکستان ٹیلی ویژن کراچی کی بنیاد رکھی گئی تو لطیف کپاڈیہ نے اپنا پہلا ٹیلی ویژن ڈرامہ شیشے کے آدمی کیا جس میں اسی کردار کو دوبارہ بنایا گیا۔ ان کے دیگر ٹیلی ویژن ڈراموں میں باریش، برزخ، ففٹی ففٹی، گریز، نادان نادیہ اور شکاستے آرزو شامل ہیں۔
لطیف کپاڈیہ نے ایک فلم ویری گڈ دنیا، ویری بیڈ لوگ میں بھی کردار ادا کیا، یہ فلم 1998 میں ریلیز ہوئی، انہیں گانے کا بھی شوق تھا اور وہ اپنے دوست احمد رشدی کے گانے گاتے تھے جو پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف گلوکار تھے۔
23 مارچ 2001 کو لطیف کپاڈیہ کو صدر پاکستان سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ ملا۔ انہیں یہ ایوارڈ پاکستان میں تھیٹر کے حوالے سے ان کی خدمات پر ملا۔
لطیف کپاڈیہ 29 مارچ 2002 کو قلبی تنفس کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ وہ اپنے پیچھے بیوی، ایک بیٹا اور چار بیٹیاں چھوڑ گئے۔ لطیف کپاڈیہ کو کراچی کے میوا شاہ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
ان کی موت کے بعد ان کے خاندان اور دوستوں نے 2007 میں لطیف کپاڈیہ میموریل ویلفیئر ٹرسٹ قائم کیا، جو کہ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے اور کم آمدن والے افراد کے لئے صحت کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔
0 Comments