Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

عافیہ صدیقی کی کہانی

 

 

afia siddiqui childrens

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی ایک بہت ہی پیچیدہ اور دل دہلا دینے والی کہانی ہے، جس میں سائنس کی دنیا میں ایک عظیم مقام حاصل کرنے والی ایک عورت کی جدوجہد اور اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بیان شامل ہے۔

ابتدائی زندگی:

ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972 کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر محمد صدیقی تھا، جو ایک معروف ماہرِ تعلیم تھے۔ عافیہ صدیقی کے خاندان نے ہمیشہ علم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنے بچوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ عافیہ نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی، اور پھر امریکا کے ایک معروف یونیورسٹی "میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی" میں داخلہ لیا۔

تعلیم اور کیریئر:

عافیہ نے ایم آئی ٹی بوسٹن  سے نیورولوجی میں بیچلر ڈگری حاصل کی، اور پھر انہوں نے برانڈائس یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل کی۔ وہ ایک ذہین اور محنتی طالبہ تھیں، اور ان کی تعلیمی کامیابیاں ان کے خاندان کے لیے فخر کا باعث بنیں۔ بعد ازاں، عافیہ صدیقی نے نیورولوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کی زندگی میں یہ ایک سنہری دور تھا، جہاں ان کی ذہانت اور محنت کی بدولت وہ دنیا کی اہم علمی شخصیات میں شمار کی جانے لگی تھیں۔

 سال 911 کے بعد کی تبدیلی:

عافیہ صدیقی کی زندگی میں ایک زبردست موڑ اس وقت آیا جب امریکہ میں 9/11 کے حملے ہوئے۔ ان حملوں کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا، اور امریکہ نے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سخت اقدامات شروع کر دیے۔ عافیہ کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک مسلمان خاتون تھیں، جس کی وجہ سے انہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نظر میں مشتبہ سمجھا گیا۔

سال 2003 میں گمشدگی:

عافیہ صدیقی 2003 میں پاکستان واپس آ رہی تھیں، جب وہ اور ان کے تین بچے اغوا ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں افغانستان میں حراست میں لے لیا گیا، لیکن ان کی گمشدگی کے حوالے سے مختلف اطلاعات ہیں۔ اس کے بعد عافیہ کی کہیں بھی کوئی خبر نہ آئی، اور وہ ایک طویل عرصے تک لاپتہ رہیں۔

گرفتاری اور مقدمہ:

 سال 2008 میں عافیہ صدیقی کی گرفتاری کے بعد ان کے بارے میں ایک عجیب اور مبہم کہانی سامنے آئی۔ عافیہ صدیقی کو افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور انہیں یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ ایک دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں اور امریکی فوجیوں پر فائرنگ کی کوشش کی تھی۔ انہیں امریکہ منتقل کیا گیا، جہاں ان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے اور مقدمہ چلایا گیا۔

امریکہ میں مقدمہ:

 پھر 2010 میں عافیہ صدیقی پر مقدمہ چلایا گیا، جس میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2008 میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ عافیہ کو 86 سال کی سزا سنائی گئی، جو کہ دنیا بھر میں ایک متنازع فیصلہ تھا۔ ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی پر الزام جھوٹا تھا اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

عافیہ صدیقی کی حالت:

عافیہ صدیقی کی گرفتاری کے دوران اور مقدمے کے دوران انہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے اہل خانہ اور حقوق انسانی کے اداروں نے مسلسل مطالبہ کیا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے، اور انہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے مزید مدد فراہم کی جائے۔

عافیہ صدیقی کا پیغام:

عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور مقدمہ نے عالمی سطح پر کئی سوالات اٹھائے، خاص طور پر مسلمانوں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے۔ عافیہ صدیقی نے اپنی قید کے دوران بھی اپنے پیغام میں کہا کہ وہ مسلمانوں کی آزادی اور حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہیں گی، اور وہ اپنے عقیدے پر قائم رہیں گی۔


ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی کہانی ایک بہت ہی پیچیدہ اور دردناک کہانی ہے۔ اس میں ایک ذہین اور باہمت خاتون کی جدوجہد، اس پر لگائے گئے جھوٹے الزامات، اور اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا قصہ ہے۔ عافیہ صدیقی کی زندگی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی اہمیت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

آج بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بازیابی کے لیے عالمی سطح پر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں، اور ان کے حامی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن وہ انصاف حاصل کریں گی اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ مل سکیں گی۔

 

You May Read This Also

Post a Comment

0 Comments